تحریر: مولانا علی عباس حمیدی
حوزہ نیوز ایجنسی| عصرِ حاضر میں عالمی سیاست کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ بالخصوص ایران پر مسلسل بیرونی دباؤ، پابندیاں اور پروپیگنڈا مسلط کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت ایک مضبوط قلعے کی مانند ثابت ہوئی ہے، جو نہ صرف ایران کی خودمختاری کی حفاظت کر رہی ہے بلکہ عالمِ اسلام کو فکری، سیاسی اور اخلاقی استقامت کا پیغام بھی دے رہی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے انقلابِ اسلامی کے بعد کے نازک دور میں ذمہ داری سنبھالی۔ امام خمینیؒ کے بعد قیادت سنبھالنا کوئی آسان کام نہ تھا، لیکن انہوں نے حکمت، صبر اور دوراندیشی سے ایران کو اندرونی انتشار اور بیرونی سازشوں سے بچائے رکھا۔ ان کی قیادت میں ایران نے سائنسی، دفاعی اور تکنیکی میدان میں قابلِ ذکر ترقی کی۔ آج ایران اپنی خود انحصاری کی وجہ سے عالمی پابندیوں کے باوجود کھڑا ہے، جو ایک مضبوط قیادت کی واضح علامت ہے۔
رہبرِ انقلاب ہمیشہ استعمار، سامراج اور صہیونی جارحیت کے خلاف کھل کر آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت، لبنان، عراق اور دیگر خطوں میں استحصال کے خلاف موقف، ان کی اصولی سیاست کا حصہ ہے۔ وہ صرف ایران کے نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ان کا پیغام واضح ہے: مسلمان اگر متحد ہوں تو کوئی طاقت انہیں غلام نہیں بنا سکتی۔
آیت اللہ خامنہ ای کی فکر میں ثقافت اور اخلاق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ وہ مغربی تہذیبی یلغار کے مقابلے میں اسلامی اقدار کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔ نوجوانوں کو علم، ہنر اور خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہیں تاکہ قوم فکری غلامی سے محفوظ رہے۔ ان کے نزدیک اصل انقلاب صرف سیاسی نہیں بلکہ فکری و اخلاقی انقلاب ہے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ عالمی میڈیا اکثر ایران اور اس کی قیادت کو منفی انداز میں پیش کرتا ہے۔ پابندیوں، معاشی دباؤ اور سفارتی تنہائی کے باوجود ایران کا اپنے مؤقف پر قائم رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ رہبرِ انقلاب نے قوم میں خودداری اور مزاحمت کی روح پیدا کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمنوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران نہ ٹوٹا ہے اور نہ ہی اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت صرف ایک ملک کی سیاسی قیادت نہیں بلکہ ایک نظریاتی جدوجہد کی علامت ہے۔ ان کی استقامت، سادگی، دینی وابستگی اور مظلوموں کی حمایت انہیں عصرِ حاضر کے مؤثر رہنماؤں میں ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔ آج جب دنیا طاقت کی زبان سمجھتی ہے، ایسے میں اصولوں پر ڈٹے رہنا ہی اصل کامیابی ہے، اور یہی پیغام خامنہ ای صاحب کی قیادت ہمیں دیتی ہے۔









آپ کا تبصرہ